صفحات

Wednesday, 15 April 2026

بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے

 بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے

بھیگی ہوئی پلکیں ہیں بھیگا ہوا داماں ہے

الفت ہی زمانے میں تسکین کا درماں ہے

اک لفظ محبت ہی ہر درد کا درماں ہے

یہ زیست خدا جانے کس بات پہ نازاں ہے

مٹی کے گھروندے میں کچھ دیر کی مہماں ہے

سچوں کی اگر دشمن دنیا ہے تو ہونے دو

سچ بولنے والوں کا اللہ نگہباں ہے

کیا جانیے چنگاری کب کوئی بھڑک اٹھے

بارود کے ڈھیروں پر بیٹھا ہوا انساں ہے

ظاہر سے کسی شے کے کھاؤ نہ صدا دھوکا

شعلے میں بھی شبنم ہے قطرے میں بھی طوفاں ہے


صدا نیوتنوی

No comments:

Post a Comment