بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے
بھیگی ہوئی پلکیں ہیں بھیگا ہوا داماں ہے
الفت ہی زمانے میں تسکین کا درماں ہے
اک لفظ محبت ہی ہر درد کا درماں ہے
یہ زیست خدا جانے کس بات پہ نازاں ہے
مٹی کے گھروندے میں کچھ دیر کی مہماں ہے
سچوں کی اگر دشمن دنیا ہے تو ہونے دو
سچ بولنے والوں کا اللہ نگہباں ہے
کیا جانیے چنگاری کب کوئی بھڑک اٹھے
بارود کے ڈھیروں پر بیٹھا ہوا انساں ہے
ظاہر سے کسی شے کے کھاؤ نہ صدا دھوکا
شعلے میں بھی شبنم ہے قطرے میں بھی طوفاں ہے
صدا نیوتنوی
No comments:
Post a Comment