تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ
بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ
تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار
خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ
لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر
بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ
ہیں گھر کے سارے دریچے ہی وا تمہارے لئے
تصورات کی دنیا میں یار آ جاؤ
نہ چھوٹ جائے کہیں اب یہ ضبط کا دامن
نہ جاؤ روٹھ کے جان بہار آ جاؤ
سحر کا تارا بھی شاہینؔ کہہ رہا ہے یہی
گزر نہ جائے شب انتظار آ جاؤ
محمد عثمان شاہین
No comments:
Post a Comment