صفحات

Monday, 13 April 2026

بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ

 تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ

بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ

تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار

خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ

لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر

بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ

ہیں گھر کے سارے دریچے ہی وا تمہارے لئے

تصورات کی دنیا میں یار آ جاؤ

نہ چھوٹ جائے کہیں اب یہ ضبط کا دامن

نہ جاؤ روٹھ کے جان بہار آ جاؤ

سحر کا تارا بھی شاہینؔ کہہ رہا ہے یہی

گزر نہ جائے شب انتظار آ جاؤ


محمد عثمان شاہین

No comments:

Post a Comment