صفحات

Monday, 13 April 2026

اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے

 اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے

بس حوالے نئے ہیں پیار پرانا ہی ہے

روز گھڑیال میں تاریخ بدل جاتی ہے

صبح کی میز پہ اخبار پرانا ہی ہے

رنگ موسم کے تغیر سے اڑا چہرے کا

دل مرے جسم میں سرکار پرانا ہی ہے

تیرے چہرے کی طلب سارے زمانے کو ہے

تیری خوشبو کا خریدار پرانا ہی ہے

رخ کہانی نے بدل رکھا ہے عرفان میاں

دل کی اسٹیج پہ فنکار پرانا ہی ہے


عرفان محبوب

No comments:

Post a Comment