صفحات

Monday, 13 April 2026

وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں

 وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں

کمال یہ ہے کہ اس سے بچھڑ کے روئے نہیں

وہ جن کے بیج سدا زخم زخم فصلیں دیں

ہماری آنکھوں میں وہ ایسے خواب بوئے نہیں

اسے کہو کہ اسے ڈھونڈنے نہ نکلیں گے

سو اتنا ذہن میں رکھیے کہ ہم کو کھوئے نہیں

تمہارے بعد بھی جینے کی اک سبیل تو ہے

تمہارے زخمِ جدائی جو ہم نے دھوئے نہیں

وہ جس کے دیس میں مجبوریوں کا موسم ہو

کہو کہ صحن میں کوئی بھی فصل بوئے نہیں


طلعت اخلاق احمد

No comments:

Post a Comment