Thursday, 9 April 2026

غم میں ڈوبا ہوا اتوار جو ٹھہرا میں

 غم میں ڈوبا ہوا اتوار جو ٹھہرا میں

کیا کروں ایک اداکار جو ٹھہرا میں

نظر پڑتے ہی وہ برہم سے نظر آتے ہیں

ان کا بھولا ہوا پیار جو ٹھہرا میں

اب سمجھ آیا مجھے کوئی مناتا کیونکر

ایک اجڑا ہوا تہوار جو ٹھہرا میں

میرا ہونا بھی ہونا ہے نہ ہونے جیسا

اپنے ہونے کا انکار جو ٹھہرا میں

جو بھی آتا ہے گریبان پکڑ لیتا ہے

بس علی یاروں کا یار جو ٹھہرا میں


علی اعجاز سیال

No comments:

Post a Comment