غم میں ڈوبا ہوا اتوار جو ٹھہرا میں
کیا کروں ایک اداکار جو ٹھہرا میں
نظر پڑتے ہی وہ برہم سے نظر آتے ہیں
ان کا بھولا ہوا پیار جو ٹھہرا میں
اب سمجھ آیا مجھے کوئی مناتا کیونکر
ایک اجڑا ہوا تہوار جو ٹھہرا میں
میرا ہونا بھی ہونا ہے نہ ہونے جیسا
اپنے ہونے کا انکار جو ٹھہرا میں
جو بھی آتا ہے گریبان پکڑ لیتا ہے
بس علی یاروں کا یار جو ٹھہرا میں
علی اعجاز سیال
No comments:
Post a Comment