Thursday, 9 April 2026

بوسیدہ خدشات کا ملبہ دور کہیں دفناؤ

 بوسیدہ خدشات کا ملبہ دُور کہیں دفناؤ

جسموں کی اس شہر پنہ میں تازہ شہر بساؤ

سارے جسم کا ریشہ ریشہ سوچ کی قوت پائے

پھر ہر سانس کا حاصل چاہے صدیوں پر پھیلاؤ

اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو

بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ

مُدت سے کیوں چاٹ رہے ہو لفظوں کی دیواریں

سینے میں مخفی خاکوں کی واضح شکل بناؤ

اپنا اپنا کفن اتاریں لاشیں اُڑتی جائیں

پیاسی زباں نِکالے دھرتی چاٹے اپنے گھاؤ


علی اکبر عباس

No comments:

Post a Comment