سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے
ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے
کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں
آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟
تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام
بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے
جانے کے تِرے بعد میں ساکت ہوں وہیں پر
جو چیز جہاں رکھی تھی وہ اب بھی وہیں ہے
صد شکر کہ لاہور میں چھت اپنی ہے سر پر
صد شکر کہ پیروں کے تلے اپنی زمیں ہے
یا چھوڑ کے جانے کی نہ اے زیب کرو بات
یا اتنا بتا دو کہ کوئی تم سا کہیں ہے
عروج زیب
No comments:
Post a Comment