ضد نہ کر سلسلے بڑھانے کی
مجھ کو عادت ہے بھول جانے کی
کس نے مجھ کو وصیتیں بخشیں
آندھیوں میں دیے جلانے کی
چاندنی سے لپٹ کے بَین کرے
ماتمی شب مِرے گھرانے کی
آج مُدت کے بعد سوئے ہیں
اتنی جلدی نہ کر جگانے کی
اب اُجڑ کر یہ سوچتے ہیں عقیل
کیا ضرورت تھی دل لگانے کی
عقیل محسن نقوی
No comments:
Post a Comment