Thursday, 9 April 2026

ضد نہ کر سلسلے بڑھانے کی

 ضد نہ کر سلسلے بڑھانے کی

مجھ کو عادت ہے بھول جانے کی

کس نے مجھ کو وصیتیں بخشیں

آندھیوں میں دیے جلانے کی

چاندنی سے لپٹ کے بَین کرے

ماتمی شب مِرے گھرانے کی

آج مُدت کے بعد سوئے ہیں

اتنی جلدی نہ کر جگانے کی

اب اُجڑ کر یہ سوچتے ہیں عقیل

کیا ضرورت تھی دل لگانے کی


عقیل محسن نقوی

No comments:

Post a Comment