سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی
میں اس کے کوچے سے اٹھ کر کہیں بھی جا نہ سکی
🍁تمام عمر پھری مثلِ برگِ آوارہ🍀
💢مِرا نصیب کہ منزل قریب آ نہ سکی💢
غموں کے وار سے لب پہ لگے تھے یوں تالے
ہزار چاہ کہ بھی میں تو مسکرا نہ سکی
یہ کِن صداؤں کا دل بھی اسیر ہے اب تک
یہ کیسی قید کہ پھر بھی قدم بڑھا نہ سکی
نظر نظر سے جو پوچھا کوئی جواب نہ تھا
نگاہ دل پہ جو ڈالی تو لب ہِلا نہ سکی
جو تُو کہے تِری خاطر تیاگ دوں دنیا
تِرے خلاف قدم میں کبھی اُٹھا نہ سکی
مِرے وجود، مِری زندگی کا تُو مُختار
کہ ایک حرف مقدر بھی میں مٹا نہ سکی
شبانہ عشرت
No comments:
Post a Comment