صفحات

Wednesday, 22 April 2026

ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

 ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے

اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں

زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے

تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو

روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے

یہ نورِ ازل سب کے مقدر میں نہیں ہے

ہوتا ہے عطا عشقِ خدا ان کے کرم سے

کیا تجھ کو بتاوں کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں

اٹھتا ہی نہیں اب میرا سر پائے صنم سے

زندہ ہیں ابد تک وہ شہیدانِ محبت💓

جو قتل ہوئے عشق میں اس ابروئے خم سے

شاید نہ ملا اس کو وہاں وہ شہِ خوباں

روتا ہوا جاتا تھا علیم اللہ حرم سے


علیم اللہ صفی چشتی نظامی

No comments:

Post a Comment