صفحات

Wednesday, 22 April 2026

وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ

 وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ

جیسے اک اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ

غم بھی تِرا شریک رہا ہے خوشی کے ساتھ

اشک آ گئے ہیں آنکھ میں اکثر ہنسی کے ساتھ

ساقی! مجھے شراب نہ دے اس کا غم نہیں

لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ

یاد آئی اور آنکھ سے آنسو نکل پڑے

اک حادثہ ہیں آپ مِری زندگی کے ساتھ

دل پر ہزار ظلم و سِتم ڈھائیے مگر

للہ کھیلیے نہ مِری زندگی کے ساتھ

وہ زندگی ہے اصل میں بے کیف اے پیام

جب تک کہ ہو نہ لذتِ غم بھی خوشی کے ساتھ


پیام سیہالوی

محمد شفیق

No comments:

Post a Comment