افسوس مِرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا
میں روز بناتا ہوں وہ پیکر نہیں بنتا
دیوار و در و بام بنائے تو ہیں لیکن
دیوار و در و بام سے تو گھر نہیں بنتا
حالات بناتے ہیں اسے جیسا بنائیں
میں چاہتا ہوں جیسا یہ منظر نہیں بنتا
پہلے تو بہتر سے بھی بن جاتا تھا لیکن
اب لاکھ بھی مل جائیں تو لشکر نہیں بنتا
بنتا ہے وہی جس کے مقدر میں لکھا ہو
بارش کا ہر اک قطرہ تو گوہر نہیں بنتا
میں نے تو بہت چاہا کہ بن جائے مگر تاج
یہ دل تو کسی طور بھی پتھر نہیں بنتا
تاج الدین تاج
No comments:
Post a Comment