صفحات

Monday, 27 April 2026

ٹوٹے ہوئے دلوں کی اجازت نہیں ملی

 ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی

ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی

آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے

آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی

کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں

اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی

کچھ وقت تو گُزار ہی لیتا ہے ہر کوئی

ہم کو تو خیر اتنی بھی مہلت نہیں ملی

اس کے علاوہ کچھ بھی سمجھ میں نہ آ سکا

فطرت نہیں ملی، کہیں قسمت نہیں ملی


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment