ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے
مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے
وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں
جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے
مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ
سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے
مِرا مکان ہے میرے زمان کی حد میں
مِرا زمان مقید مِرے مکان میں ہے
وہ شیش ناگ کے ڈسنے سے بڑھ کے مہلک ہے
جو زہر اشرف المخلوق کی زبان میں ہے
جو سچ تھا گزرے ہوئے کل کا آج باطل ہے
وہ کل کا سچ ہے ابھی جو مِرے گمان میں ہے
واحد سراج
No comments:
Post a Comment