صفحات

Monday, 27 April 2026

ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے

 ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے

مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے

وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں

جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے

مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ

سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے

مِرا مکان ہے میرے زمان کی حد میں

مِرا زمان مقید مِرے مکان میں ہے

وہ شیش ناگ کے ڈسنے سے بڑھ کے مہلک ہے

جو زہر اشرف المخلوق کی زبان میں ہے

جو سچ تھا گزرے ہوئے کل کا آج باطل ہے

وہ کل کا سچ ہے ابھی جو مِرے گمان میں ہے


واحد سراج

No comments:

Post a Comment