گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی
ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی
دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا
اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی
اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا
اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی
اب رو رہی ہے رات کی بانہوں میں زندگی
تم کیا گئے کہ روشنی گھر سے نکل گئی
کاٹا ہے بے ستوں کو مگر جاں نہ دے سکے
کچھ بات تھی جو دستِ ہُنر سے نکل گئی
اشرف عدیل
No comments:
Post a Comment