ہنس دو پھر ایک بار غزل کہہ رہا ہوں میں
لوٹ آئی ہے بہار غزل کہہ رہا ہوں میں
لفظوں کو تیرے حُسن کہ صہبا میں ڈھال کر
اے جانِ صد بہار غزل کہہ رہا ہوں میں
ڈُوبا ہوا ہوں ساغرِ چشمِ سیاہ میں
ہر شے پہ ہے خُمار غزل کہہ رہا ہوں میں
اُن کی حسین زُلف کو للہ اے صبا
مت چھیڑ بار بار غزل کہہ رہا ہوں میں
ہیں ذہن میں کسی کی حسیں شوخیاں پیام
دل میں ہے رُوئے یار غزل کہہ رہا ہوں میں
پیام سیہالوی
محمد شفیق
No comments:
Post a Comment