صفحات

Tuesday, 21 April 2026

لوٹ آئی ہے بہار غزل کہہ رہا ہوں میں

 ہنس دو پھر ایک بار غزل کہہ رہا ہوں میں

لوٹ آئی ہے بہار غزل کہہ رہا ہوں میں

لفظوں کو تیرے حُسن کہ صہبا میں ڈھال کر

اے جانِ صد بہار غزل کہہ رہا ہوں میں

ڈُوبا ہوا ہوں ساغرِ چشمِ سیاہ میں

ہر شے پہ ہے خُمار غزل کہہ رہا ہوں میں

اُن کی حسین زُلف کو للہ اے صبا

مت چھیڑ بار بار غزل کہہ رہا ہوں میں

ہیں ذہن میں کسی کی حسیں شوخیاں پیام

دل میں ہے رُوئے یار غزل کہہ رہا ہوں میں


پیام سیہالوی

محمد شفیق

No comments:

Post a Comment