صفحات

Wednesday, 1 July 2026

تیرے دیدار کو آتے ہیں چلے جاتے ہیں

 تیرے دِیدار کو آتے ہیں چلے جاتے ہیں

دو گھڑی عِید مناتے ہیں چلے جاتے ہیں

ہم کو جو تیری طلب ہے تو فقط اتنی ہے

تجھ کو آنکھوں میں بساتے ہیں چلے جاتے ہیں

کبھی بھُولے سے تِرے ہاتھ جو چھُو لیں ہم کو

رُوح میں پھُول کھِلاتے ہیں چلے جاتے ہیں

ہم کو معلوم ہے کیا دو گے محبت کا جواب

پھر بھی زنجیر ہِلاتے ہیں چلے جاتے ہیں

تیری محفل میں جو آ جاتے ہیں ایوب ندیم

ایک دو شعر سُناتے ہیں چلے جاتے ہیں


ایوب ندیم 

No comments:

Post a Comment