میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
گرد آلود پھول سے بچے مستقبل کے خالق
ہاتھوں میں تختی کے تیشے کاندھوں پر بستے ہیں
دستِ ہنر جب فن کی بلندی چھو لیتا ہے پیارے
تصویریں باتیں کرتی ہیں، آئینے ہنستے ہیں
پیار کا دھن اخلاص کے گوہر یا چاہت کا موتی
جس قیمت پر بھی مل جائیں سمجھو یہ سستے ہیں
غیروں کے نشتر کیا دیکھیں آئینے کے اندر
ہم پہ ایاز اپنے ہی چہرے آوازے کستے ہیں
ایاز اعظمی
رئیس احمد
No comments:
Post a Comment