Wednesday, 1 July 2026

میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں

 میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں

ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں

اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے

ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں

کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں

چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں

گرد آلود پھول سے بچے مستقبل کے خالق

ہاتھوں میں تختی کے تیشے کاندھوں پر بستے ہیں

دستِ ہنر جب فن کی بلندی چھو لیتا ہے پیارے

تصویریں باتیں کرتی ہیں، آئینے ہنستے ہیں

پیار کا دھن اخلاص کے گوہر یا چاہت کا موتی

جس قیمت پر بھی مل جائیں سمجھو یہ سستے ہیں

غیروں کے نشتر کیا دیکھیں آئینے کے اندر

ہم پہ ایاز اپنے ہی چہرے آوازے کستے ہیں


ایاز اعظمی

رئیس احمد

No comments:

Post a Comment