محبت سے کِنارہ کر رہے ہیں
وہ خُود اپنا خسارہ کر رہے ہیں
ہمارا حوصلہ کیا پوچھتے ہو؟
بغیر اس کے گُزارا کر رہے ہیں
جُھکائیں سر کہ آپ اہلِ زمیں ہیں
فلک کا کیا نظارہ کر رہے ہیں
انہیں کوئی سہارا مل رہا ہے
ہمیں جو بے سہارا کر رہے ہیں
معاذ احمد تم ان کا دل ہی رکھ لو
جو تم پر جان وارا کر رہے ہیں
احمد معاذ
No comments:
Post a Comment