سورج کے آس پاس
آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت
ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت
اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن
جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت
چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے
منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت
ہو غمِ عشق، اور غم کوئی نہ ہو
یوں تو کہنے کے لیے غم ہیں بہت
ترکِ مے نوشی کریں تو کیا کریں
زاہدوں کو چاہتے ہیں ہم ہیں بہت
نیاز حیدر
No comments:
Post a Comment