صفحات

Monday, 17 August 2026

دکھ درد در و دیوار سبھی ایک ہوئے

 دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے

غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے

ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا

جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے

کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت

تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے

چلتی سانسوں کا بدن ٹُوٹ چکا ہو جیسے

نفرتِ یار و انتظار سبھی ایک ہوئے

اتنی خوددار وفاؤں میں بھی شجاع محروم

ایسا لگتا ہے گُنہ گار سبھی ایک ہوئے


کاشف شجاع

No comments:

Post a Comment