روزِ اوّل سے یہی کرتا رہا ہے آدمی
سوچتا کم، اور زیادہ بولتا ہے آدمی
ہے یہ قاصر اپنے چہرے کو بدلنے سے مگر
آئینہ ہر زاویے سے دیکھتا ہے آدمی
کون سی منزل ہے اس کی اور جانا ہے کہاں
نِت نئے رستوں پہ چلتا جا رہا ہے آدمی
ہے کسی کا انتظار اس کو یا اس کا خبط ہے
یا ہر اک آہٹ پہ رسماً چونکتا ہے آدمی
حرکت و سکنات زندہ ہیں نیاز اس میں مگر
سچ تو یہ ہے جانے کب کا مر چکا ہے آدمی
نیاز احمد جیراجپوری
No comments:
Post a Comment