خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے
بونے سمجھ رہے ہیں وہ قد سے نکل گئے
اب ہم کو چھُو نہ پائے گی دنیا تِری ہوس
ہم تیری خواہشات کی زد سے نکل گئے
آنتیں ہی بھر رہی ہیں لہو سے مِرا شِکم
اب بھُوک کے محاذ رسد سے نکل گئے
جو کر رہا تھا ہم کو ڈبونے کی کوششیں
دریا سے ہم اسی کی مدد سے نکل گئے
حالاے نے پڑھائے ہیں اتنے سبق ہمیں
ہم لوگ ناقدوں کی سند سے نکل گئے
پہلے مجھ کو اُتارا بڑے احترام سے
احباب اس کے بعد لحد سے نکل گئے
ان کے مُقدروں میں لکھیں سرفرازیاں
جن کے دل و دماغ حسد سے نکل گئے
سنجے مشرا شوق
سنجے مصرا شوق
No comments:
Post a Comment