صفحات

Saturday, 1 August 2026

چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا برا ہو جائے گا

 چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا بُرا ہو جائے گا

مان جا، ورنہ کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے گا

میں کہ بے نامی میں بھی خُوش اور وہ اہمیت طلب

ہم اگر ٹکرا گئے تو حادثہ ہو جائے گا

آخری پردہ بھی اس کو میری آنکھوں نے دیا

کیا خبر تھی وہ یہاں تک بے حیا ہو جائے گا

حدِ استعداد میں اور وُسعتِ زنجیر میں

فرق کرنا سیکھ لے پھر دیکھ کیا ہو جائے گا

اے مِری بے چہرگی! چہرہ پرستوں سے حذر

ورنہ جس چہرے کو تولے گی خُدا ہو جائے گا

شہر میں چہرہ فروشوں کے ذرا قیمت تو دے

تُجھ سا آدم خور بھی انساں نما ہو جائے گا

ہاں قفس کی تِیلیوں سے آشیاں تعمیر کر

ورنہ یہ پھر بجلیوں کے کام کا ہو جائے گا


کندن اراولی

کندن سنگھ

No comments:

Post a Comment