جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی حادثہ لگے ہے مجھے
کسی کی زلفِ پریشاں سے چاک داماں تک
غرض جنوں کا وہی سلسلہ لگے ہے مجھے
وہ شخص جس نے ہزاروں ستم کیے ایجاد
کہیں سے وہ بھی ستایا ہوا لگے ہے مجھے
مِرا ہی عکس دکھاتا ہے رو برو مجھ کو
یہ آدمی تو کوئی آئینہ لگے ہے مجھے
مجھے بڑی سے بڑی آفتیں قبول، مگر
گھڑی گھڑی کا تماشا بڑا لگے ہے مجھے
تِری پہاڑ سی عظمت کو دیکھ کر تاباں
مِرا وجود بھی اک نقشِ پا لگے ہے مجھے
نہال تاباں
No comments:
Post a Comment