تم سفینۂ وفا ہم بادباں بن جائیں گے
تم گُلوں کی آبرو ہم آشیاں بن جائیں گے
آستانِ رب کے سجدے تم کرو گے رات دن
دیکھنا اس در کے ہم ہی آستاں بن جائیں گے
شوق سے سنتے ہو بیٹھے داستاں تم دوستو
آنے والے کل میں ہم خود داستاں بن جائیں گے
تم قمر ہو آسماں پر آنجمن تاروں کی ہے
آسماں پر دیکھنا ہم کہکشاں بن جائیں گے
جلتی ہو جن راستوں میں رات دن بن کے چراغ
راستوں پہ ایک دن ہم کارواں بن جائیں گے
سید انور سعید
No comments:
Post a Comment