صفحات

Saturday, 11 January 2014

ہر کوئی طرہ پیچاک پہن کر نکلا

ہر کوئی طرۂ پیچاک پہن کر نکلا
 ایک میں پیرہن خاک پہن کر نکلا
 اور پھر سب نے یہ دیکھا کہ اسی مقتل سے 
 میرا قاتل، میری پوشاک پہن کر نکلا
ایک بندہ تھا کہ اوڑھے تھا خدائی ساری
 اک ستارہ تھا کہ افلاک پہن کر نکلا
 ایسی نفرت تھی کی اس شہر کو جب آگ لگی
 ہر بگولہ خس و خاشاک پہن کر نکلا
 ترکش و دام عبث لے کے چلا ہے صیاد
 جو بھی نخچیر ہے فتراک پہن کر نکلا
 اس کے قامت سے اسے جان کئے لوگ فرازؔ
 جو لبادہ بھی وہ چالاک پہن کر نکلا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment