صفحات

Saturday, 11 January 2014

خود کو تیرے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

 خود کو تیرے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
 جو چھوڑ گیا، اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا
 میری طرح، تُو نے شبِ ہجراں نہیں کاٹی
 میری طرح، اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا
تُو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
 تُو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا
 تھے کوچۂ جاناں سے پرے بھی کئی منظر
 دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا
 اب یاد نہیں مجھ کو فراز اپنا بھی پیکر
 جس روز سے بکھرا ہوں سِمٹ کر نہیں دیکھا

احمد فراز

No comments:

Post a Comment