خود کو تیرے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
جو چھوڑ گیا، اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا
میری طرح، تُو نے شبِ ہجراں نہیں کاٹی
میری طرح، اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا
تُو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
تھے کوچۂ جاناں سے پرے بھی کئی منظر
دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا
اب یاد نہیں مجھ کو فراز اپنا بھی پیکر
جس روز سے بکھرا ہوں سِمٹ کر نہیں دیکھا
احمد فراز
احمد فراز
No comments:
Post a Comment