Saturday, 11 January 2014

نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے

نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے
 جو شخص ساتھ نہیں اس کا عکس باقی ہے
 اٹھا کے لے گئے دُزدانِ شب، چراغ تلک
 سو، کور چشم پتنگوں کا رقص باقی ہے
گھٹا اٹھی ہے مگر ٹوٹ کر نہیں برسی
 ہوا چلی ہے مگر پھر بھی حبس باقی ہے
 الٹ پلٹ گئی دنیا وہ زلزلے آئے
 مگر خرابۂ دل میں وہ شخص باقی ہے
 فراز آئے ہو تم اب رفیقِ شب کو لیے
 کہ دورِ جام، نہ ہنگامِ رقص باقی ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment