ہر کوئی طرۂ پیچاک پہن کر نکلا
ایک میں پیرہن خاک پہن کر نکلا
اور پھر سب نے یہ دیکھا کہ اسی مقتل سے
میرا قاتل، میری پوشاک پہن کر نکلا
ایک بندہ تھا کہ اوڑھے تھا خدائی ساری
ایسی نفرت تھی کی اس شہر کو جب آگ لگی
ہر بگولہ خس و خاشاک پہن کر نکلا
ترکش و دام عبث لے کے چلا ہے صیاد
جو بھی نخچیر ہے فتراک پہن کر نکلا
اس کے قامت سے اسے جان کئے لوگ فرازؔ
جو لبادہ بھی وہ چالاک پہن کر نکلا
احمد فراز
احمد فراز
No comments:
Post a Comment