تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں
کر رہے ہیں یاد اسے ہم روز و شب
ہیں بھُلانے کی اُسے تیاریاں
تھا کبھی میں اِک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مَت ماریاں
جُھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بے چاریاں
شعر تو کیا، بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جونؔ ہیں سرکاریاں
جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں
ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں
سُن رکھو اے شہر دارو! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں
جون ایلیا
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں
کر رہے ہیں یاد اسے ہم روز و شب
ہیں بھُلانے کی اُسے تیاریاں
تھا کبھی میں اِک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مَت ماریاں
جُھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بے چاریاں
شعر تو کیا، بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جونؔ ہیں سرکاریاں
جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں
ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں
سُن رکھو اے شہر دارو! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment