Thursday, 6 November 2014

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
 تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں
 کر رہے ہیں یاد اسے ہم روز و شب
 ہیں بھُلانے کی اُسے تیاریاں
 تھا کبھی میں اِک ہنسی اُن کے لیے
 رو رہی ہیں اب مجھے مَت ماریاں
 جُھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
 خوب ہیں یہ لڑکیاں بے چاریاں
 شعر تو کیا، بات کہہ سکتے نہیں
 جو بھی نوکر جونؔ ہیں سرکاریاں
 جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
 اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں
 ہم بھلا آئین اور قانون کی
 کب تلک سہتے رہیں غداریاں
 سُن رکھو اے شہر دارو! خون کی
 ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment