ملا کے آنکھ نہ محرومِ ناز رہنے دے
تجھے قسم جو مجھے پاکباز رہنے دے
میں اپنی جان تو قربان کر چکوں تجھ پر
یہ چشمِ مست ابھی نیم باز رہنے دے
گلے سے تیغِ ادا کو جدا نہ کر قاتل
ابھی یہ منظر راز و نیاز رہنے دے
یہ تیرِ ناز ہیں تو شوق سے چلائے جا
خیالِ خاطرِ اہلِ نیاز رہنے دے
ازل سے حسن تو عاشق نواز ہے، لیکن
جو عشق ہے اسے عاشق نواز رہنے دے
بجھا نہ آتشِ فرقت کرم کے چھینٹوں سے
دلِ جگر کو مجسم گداز رہنے دے
تجھے قسم جو مجھے پاکباز رہنے دے
میں اپنی جان تو قربان کر چکوں تجھ پر
یہ چشمِ مست ابھی نیم باز رہنے دے
گلے سے تیغِ ادا کو جدا نہ کر قاتل
ابھی یہ منظر راز و نیاز رہنے دے
یہ تیرِ ناز ہیں تو شوق سے چلائے جا
خیالِ خاطرِ اہلِ نیاز رہنے دے
ازل سے حسن تو عاشق نواز ہے، لیکن
جو عشق ہے اسے عاشق نواز رہنے دے
بجھا نہ آتشِ فرقت کرم کے چھینٹوں سے
دلِ جگر کو مجسم گداز رہنے دے
جگر مراد آبادی
No comments:
Post a Comment