درد فرقت کو جگا لیں تو چلے جائیے گا
زندگی دل کی بڑھا لیں تو چلے جائیے گا
دیکھیے بات سمجھنے کی ہے، کہنے کی نہیں
بات ست بات بنا لیں تو چلے جائیے گا
ہر گھڑی درد کا انداز بدل جاتا ہے
پہلے آ جائیے پیغامِ محبت بن کر
آپ کی بات کو ٹالیں تو چلے جائیے گا
بیخودی میں ابھی باقی ہے خودی کا احساس
اور کچھ ہوش میں آ لیں تو چلے جائیے گا
آپ برہم ہیں تو اس کا نہیں شکوہ ہم کو
اپنی قسمت کو بنا لیں تو چلے جائیے گا
جب یہ ارماں ہے تو کہتے نہیں کیوں ان سے شجیعؔ
آپ کو دل میں چھپا لیں تو چلے جائیے گا
معظم جاہ شجیع
No comments:
Post a Comment