Saturday, 12 December 2015

درد فرقت کو جگا لیں تو چلے جائیے گا

درد فرقت کو جگا لیں تو چلے جائیے گا
زندگی دل کی بڑھا لیں تو چلے جائیے گا
دیکھیے بات سمجھنے کی ہے، کہنے کی نہیں
بات ست بات بنا لیں تو چلے جائیے گا
ہر گھڑی درد کا انداز بدل جاتا ہے
دو گھڑی دل کو سنبھالیں تو چلے جائیے گا
پہلے آ جائیے پیغامِ محبت بن کر
آپ کی بات کو ٹالیں تو چلے جائیے گا
بیخودی میں ابھی باقی ہے خودی کا احساس
اور کچھ ہوش میں آ لیں تو چلے جائیے گا
آپ برہم ہیں تو اس کا نہیں شکوہ ہم کو
اپنی قسمت کو بنا لیں تو چلے جائیے گا
جب یہ ارماں ہے تو کہتے نہیں کیوں ان سے شجیعؔ
آپ کو دل میں چھپا لیں تو چلے جائیے گا

معظم جاہ شجیع

No comments:

Post a Comment