صفحات

Thursday, 6 October 2016

ہم نے اے دوست رفاقت سے بھلا کیا پایا

ہم نے اے دوست رفاقت سے بھلا کیا پایا
جوئے بے آب ہے تُو، میں شجرِ بے سایا
درد جو عقل کے اسراف سے بچ رہتا ہے
عشق کے قحط زدوں کا ہے وہی سرمایا 
دیدۂ دل سے گزرتا ہے کوئی شخص اکثر
جیسے آہوئے رمیدہ کا گریزاں سایا
کل فقط گیسوئے برہم تھے نشانِ تشویش
آج دیکھا تو اسے اور پریشاں پایا
میں ہوں خود اپنے ہی خاکسترِ جاں میں مدفون
جس طرح دفن خرابے میں کوئی سرمایا

رئیس امروہوی

No comments:

Post a Comment