ہم نے اے دوست رفاقت سے بھلا کیا پایا
جوئے بے آب ہے تُو، میں شجرِ بے سایا
درد جو عقل کے اسراف سے بچ رہتا ہے
عشق کے قحط زدوں کا ہے وہی سرمایا
دیدۂ دل سے گزرتا ہے کوئی شخص اکثر
کل فقط گیسوئے برہم تھے نشانِ تشویش
آج دیکھا تو اسے اور پریشاں پایا
میں ہوں خود اپنے ہی خاکسترِ جاں میں مدفون
جس طرح دفن خرابے میں کوئی سرمایا
رئیس امروہوی
No comments:
Post a Comment