صفحات

Tuesday, 1 November 2016

جب بھی آتا ہے وہ میرے دھیان میں

جب بھی آتا ہے وہ میرے دھیان میں
پھول رکھ جاتا ہے روشندان میں
جسم و جاں کو تازہ موسم مل گئے
جل گیا میں تِرے آتشدان میں
گھر کے بام و در نئے لگنے لگے
حسن ایسا تھا مِرے مہمان میں
تتلیاں کمرے کے اندر آ گئیں
ایک پھول ایسا بھی تھا گلدان میں
آندھیوں میں بھی اڑاتا ہے مجھے
کون ہے یہ میرے جسم و جان میں
اجنبی خوابوں کا صورت گر ہوں میں
اور شامل ہوں تِری پہچان میں

جاذب قریشی

No comments:

Post a Comment