جب بھی آتا ہے وہ میرے دھیان میں
پھول رکھ جاتا ہے روشندان میں
جسم و جاں کو تازہ موسم مل گئے
جل گیا میں تِرے آتشدان میں
گھر کے بام و در نئے لگنے لگے
تتلیاں کمرے کے اندر آ گئیں
ایک پھول ایسا بھی تھا گلدان میں
آندھیوں میں بھی اڑاتا ہے مجھے
کون ہے یہ میرے جسم و جان میں
اجنبی خوابوں کا صورت گر ہوں میں
اور شامل ہوں تِری پہچان میں
جاذب قریشی
No comments:
Post a Comment