صفحات

Friday, 2 December 2016

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے، کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی
اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے
دن کو اک نور برستا ہے مِری تُربت پہ
رات کو چادرِ مہتاب تنی ہوتی ہے
زندہ درگور ہم ایسے جو ہیں مرنے والے
جیتے جی ان کے گلے میں کفنی ہوتی ہے
لٹ گیا وہ تِرے کوچے میں رکھا جس نے قدم
اس طرح کی بھی کہیں راہ زنی ہوتی ہے
ہوک اٹھتی ہے اگر ضبط فغاں کرتا ہے
سانس رکتی ہے تو برچھی کی انی ہوتی ہے
پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ
صاف انکار میں خاطر شکنی ہوتی ہے​

حفیظ جونپوری

No comments:

Post a Comment