صفحات

Friday, 2 December 2016

جلاؤ غیرکو بجلی گرا کر

جلاؤ غیرکو بجلی گرا کر
نظر ہم سے ملاؤ مسکرا کر
جو بیٹھے ہیں کبھی محفل میں آ کر
تو اٹھے سینکڑوں فتنے اٹھا کر
ہنسو بولو کہ ہے یہ وصل کی شب
نہ بیٹھو آج کے دن منہ بنا کر
کہا اس نے سوالِ وصل سن کے
ارے جا! ہوش کی اپنی دوا کر
حفیظؔ ایسی کسی کو کیا پڑی ہے
جو لے جائے وہاں تم کو منا کر

حفیظ جونپوری

No comments:

Post a Comment