جلاؤ غیرکو بجلی گرا کر
نظر ہم سے ملاؤ مسکرا کر
جو بیٹھے ہیں کبھی محفل میں آ کر
تو اٹھے سینکڑوں فتنے اٹھا کر
ہنسو بولو کہ ہے یہ وصل کی شب
کہا اس نے سوالِ وصل سن کے
ارے جا! ہوش کی اپنی دوا کر
حفیظؔ ایسی کسی کو کیا پڑی ہے
جو لے جائے وہاں تم کو منا کر
حفیظ جونپوری
No comments:
Post a Comment