صفحات

Saturday, 7 January 2017

دل کو اس زلف کی زنجیر میں رکھے ہوئے ہیں

دل کو اس زلف کی زنجیر میں رکھے ہوئے ہیں 
یہ غمِ دل ہے، جو تحریر میں رکھے ہوئے ہیں 
چشمِ قاتل نے ہمیں خواب ہی کچھ ایسے دیئے 
خود کو ہم مقتلِ تعبیر میں رکھے ہوئے ہیں 
ان کی تصویر سے بھی آنکھ ملائی نہ گئی 
نِگہ زندہ وہ تصویر میں رکھے ہوئے ہیں 
تا نہ کھل جائیں وہ ہم سے دمِ گفت و شنید 
وہ ملاقات کو تاخیر میں رکھے ہوئے ہیں 
کون سی رسم ہے کٹتے ہی چلے جاتے ہیں سر 
عشق ہم خون کی تاثیر میں رکھے ہوئے ہیں

جاوید احمد

No comments:

Post a Comment