دل کو اس زلف کی زنجیر میں رکھے ہوئے ہیں
یہ غمِ دل ہے، جو تحریر میں رکھے ہوئے ہیں
چشمِ قاتل نے ہمیں خواب ہی کچھ ایسے دیئے
خود کو ہم مقتلِ تعبیر میں رکھے ہوئے ہیں
ان کی تصویر سے بھی آنکھ ملائی نہ گئی
تا نہ کھل جائیں وہ ہم سے دمِ گفت و شنید
وہ ملاقات کو تاخیر میں رکھے ہوئے ہیں
کون سی رسم ہے کٹتے ہی چلے جاتے ہیں سر
عشق ہم خون کی تاثیر میں رکھے ہوئے ہیں
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment