صحرا اٹھا کے پھینک یہ دریا اٹھا کے پھینک
موجود کا یہ سلسلہ سارا اٹھا کے پھینک
ترتیب کائنات کی کچھ اور ہی بنا
بوسیدہ ہو گیا ہے یہ نقشہ اٹھا کے پھینک
سکے کھنک رہے ہیں عزازیل کے یہاں
حرف آ رہا ہے صنعتِ کوزہ گری پہ اب
سو چاک پر رکھا ہے جو کوزہ اٹھا کے پھینک
دنیائے بے معاش میں خلقت خراب ہے
یہ سب کباڑ خانہ یہ کچرا اٹھا کے پھینک
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment